بشارت کے ایک افسانے کا کلائمکس کچھ اس طرح تھا :
انجم آرا کی حسن آفرینیوں ، سحر انگیزیوں اور حشر سامانیوں سے مشام جان معطر تھا۔ وہ لغزیدہ لغزیدہ قدموں سے آگے بڑھی اور فرطِ حیا سے اپنی اطلسی بانہوں کو اپنی ہی دزویدہ دزویدہ آنکھوں پر رکھا۔ سلیم نے انجم آرا کے دستِ حنائی کو اپنے آہنی ہاتھ میں لے کر پتھرائی ہوئی آنکھوں سے اس کی ہیرا تراش کلائی اور ساقِ بلوریں کو دیکھا اور گلنار سے لبوں پر ۔۔۔۔ چار نقطے ثبت کر دیے۔
بشارت گن کر اتنے ہی نقطے لگاتے جن کی اجازت اُس وقت کے حالات ، حیا یا ہیروئین نے دی ہو۔
ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ اس زمانے میں انجمن ترقی اردو کے رسالے میں ایک مضمون چھپا تھا۔ اس میں جہاں جہاں لفظ "بوسہ" آیا ، وہاں مولوی عبدالحق نے ، بربنائے تہذیب اس کے ہجے یعنی "ب و س ہ" چھاپ کر اُلٹا اس کی لذت و طوالت میں اضافہ فرما دیا۔
یہاں ہمیں اُن کا یا اپنے حبیبِ لبیب کی طرزِ نگارش کا مذاق اُڑانا مقصود نہیں۔ ہر زمانے کا اپنا اسلوب اور آہنگ ہوتا ہے۔ لفظ کبھی انگرکھا ، کبھی عبا و عمامہ ، کبھی ڈنر جیکٹ یا فُولس کیپ ، کبھی پیر میں پائل یا بیڑی پہنے نظر آتے ہیں۔ اور کبھی کوئی مداری اپنی قاموسی ڈگڈگی بجاتا ہے تو لفظوں کے سدھے سدھائے بندر ناچنے لگتے ہیں۔
مولانا ابوالکلام آزاد اپنا سنِ پیدائش اس طرح بتاتے ہیں :
یہ غریب الدیارِ عہد ، ناآشنائے عصر ، بیگانۂ خویش ، نمک پروردۂ ریش ، خرابۂ حسرت کہ موسوم بہ احمد ، مدعو بابی الکلام 1888ء مطابق ذو الحجہ 1305ھ میں ہستیِ عدم سے اس عدمِ ہستی میں وارد ہوا اور تہمتِ حیات سے متہم۔
اب لوگ اس طرح نہیں لکھتے۔ اس طرح پیدا بھی نہیں ہوتے۔ اتنی خجالت ، طوالت و اذیت تو آج کل سیزیرین پیدائش میں بھی نہیں ہوتی۔
اسی طرح نوطرز مرصع کا ایک جملہ ملاحظہ فرمائیے :
جب ماہتابِ عمر میرے کا بدرجہ چہاردہ سالگی کے پہنچا ، روزِ روشنِ ابتہاج اس تیرہ بخت کا تاریک تر شبِ یلدہ سے ہوا ، یعنی پیمانۂ عمر و زندگانی مادر و پدرِ بزرگوار حظوظِ نفسانی سے لبریز ہو کے اسی سال دستِ قضا سے دہلا۔
کہنا صرف یہ چاہتے ہیں کہ : جب میں چودہ برس کا ہوا تو ماں باپ فوت ہو گئے۔ لیکن پیرایہ ایسا گنجلک اختیار کیا کہ والدین کے ساتھ مطلب بھی فوت ہو گیا۔
مرزا عبدالودود بیگ نے ایسے pompous style کے لیے سبکِ ہندی کی طرز پر ایک نئی اصطلاح وضع کی ہے: طرز اسطوخودّوس
( آبِ گم )
12.4.09
11.4.09
یوسفی کی مزاح نگاری - یونیکوڈ کمپوزنگ
انٹرنیٹ کی اردو کمیونیٹی کے مقبولِ عام اور اولین فورم اردو محفل پر کچھ عرصہ قبل مشتاق احمد یوسفی کی تمام کتب کی یونیکوڈ کمپوزنگ کی مہم شروع ہوئی تھی۔
ابھی اس بات کا علم نہ ہو سکا کہ یہ کام کتنے فیصد تکمیل پایا؟
بہرحال جتنا کچھ مواد اِس وقت اردو محفل پر یونیکوڈ اردو کی شکل میں محفوظ ہے ، اس کے روابط ذیل میں دئے جا رہے ہیں :
چراغ تلے
آبِ گم ۔۔۔۔غنودیم غنودیم
آبِ گم (حویلی)
آبِ گم (دھیرج گنج کا پہلا یادگار مشاعرہ)
آبِ گم (دھیرج گنج کا پہلا یادگار مشاعرہ)
آبِ گُم - شہر دو قصہ
آب ِ گُم ( کار ، کابلی والا اور الہ دین بے چراغ )
حصہ : 1
حصہ : 2
**********
بشکریہ :
اردو محفل فورم > ڈیجیٹل اردو لائبریری پراجیکٹ > اردو نثر > مزاح نگاری
ابھی اس بات کا علم نہ ہو سکا کہ یہ کام کتنے فیصد تکمیل پایا؟
بہرحال جتنا کچھ مواد اِس وقت اردو محفل پر یونیکوڈ اردو کی شکل میں محفوظ ہے ، اس کے روابط ذیل میں دئے جا رہے ہیں :
چراغ تلے
آبِ گم ۔۔۔۔غنودیم غنودیم
آبِ گم (حویلی)
آبِ گم (دھیرج گنج کا پہلا یادگار مشاعرہ)
آبِ گم (دھیرج گنج کا پہلا یادگار مشاعرہ)
آبِ گُم - شہر دو قصہ
آب ِ گُم ( کار ، کابلی والا اور الہ دین بے چراغ )
حصہ : 1
حصہ : 2
**********
بشکریہ :
اردو محفل فورم > ڈیجیٹل اردو لائبریری پراجیکٹ > اردو نثر > مزاح نگاری
یوسفی - مختصر مختصر ۔۔۔
آپ کی پیدائش ضلع ٹونک (راجستھان ، انڈیا) کی ہے۔ سن پیدائش : 1923ء
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم-اے (فلاسفی) اور ایل-ایل-بی کی تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔
تقسیمِ ہند پر کراچی چلے آئے۔
حکومتِ پاکستان کی جانب سے 1999ء میں دو نمایاں اعزازات ستارۂ امتیاز اور ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا۔ اور بینکاری میں آپ کی صلاحیتوں اور قابلیتوں کے پیش نظر قائد اعظم میموریل میڈل عطا کیا گیا۔
اب تک آپ کی چار کتابیں منظرِ عام پر آ چکی ہیں۔
1۔ چراغ تلے {1961ء}
2۔ خاکم بدہن {1969ء}
3۔ زر گزشت {1976ء}
4۔ آبِ گُم {1990ء}
آن لائن مطالعہ :
مشتاق احمد یوسفی - اردو وکی پیڈیا
مشتاق احمد یوسفی - انگریزی وکی پیڈیا
اقتباساتِ یوسفی - یوٹیوب ویڈیو
یوٹیوب پر مشتاق احمد یوسفی
اردو منزل پر مشتاق احمد یوسفی (مختلف مضامین / تجزیے)
مشتاق احمد یوسفی کی چٹ پٹی تقریر (MP3 ڈاؤن لوڈ)
مشتاق احمد یوسفی کا فن - پروفیسر خالد سعید
چراغ تلے کا فن - وکی پیڈیا پر
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم-اے (فلاسفی) اور ایل-ایل-بی کی تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔
تقسیمِ ہند پر کراچی چلے آئے۔
حکومتِ پاکستان کی جانب سے 1999ء میں دو نمایاں اعزازات ستارۂ امتیاز اور ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا۔ اور بینکاری میں آپ کی صلاحیتوں اور قابلیتوں کے پیش نظر قائد اعظم میموریل میڈل عطا کیا گیا۔
اب تک آپ کی چار کتابیں منظرِ عام پر آ چکی ہیں۔
1۔ چراغ تلے {1961ء}
2۔ خاکم بدہن {1969ء}
3۔ زر گزشت {1976ء}
4۔ آبِ گُم {1990ء}
آن لائن مطالعہ :
مشتاق احمد یوسفی - اردو وکی پیڈیا
مشتاق احمد یوسفی - انگریزی وکی پیڈیا
اقتباساتِ یوسفی - یوٹیوب ویڈیو
یوٹیوب پر مشتاق احمد یوسفی
اردو منزل پر مشتاق احمد یوسفی (مختلف مضامین / تجزیے)
مشتاق احمد یوسفی کی چٹ پٹی تقریر (MP3 ڈاؤن لوڈ)
مشتاق احمد یوسفی کا فن - پروفیسر خالد سعید
چراغ تلے کا فن - وکی پیڈیا پر
Subscribe to:
Posts (Atom)